ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ناگپور : شدید گرمی کا قہر، ودربھ میں لُو لگنے سے کئی اموات؟، انتظامیہ نے تردید

ناگپور : شدید گرمی کا قہر، ودربھ میں لُو لگنے سے کئی اموات؟، انتظامیہ نے تردید

Mon, 03 Jun 2024 11:17:03    S.O. News Service

ناگپور، 3/جون (ایس او نیوز /ایجنسی ) ودربھ میں گزشتہ چند دنوں سے گرمی کی شدید لہر چل رہی ہے۔ ناگپور میں سنیچر کو درجہ حرارت۴۵ء۴؍ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ جبکہ وردھا میں ۴۶؍ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ ناگپور شہر میں مانسون کی آمد سے قبل جھلسا دینے والی گرمی نے قہر برسایا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں ۲۶؍ بے گھر افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حالانکہ میونسپل کارپوریشن نے ان اموات کے متعلق کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی واضح ہوسکے گا کہ یہ موت ہیٹ اسٹروک کے سبب ہوئی ہے یا دیگر وجوہات کے سبب۔ گزشتہ ۷؍ دن کے اوسط پر نظر ڈالیں تو روزانہ ۳؍ سے زیادہ اموات کی اطلاع ملی ہیں۔ تاہم محکمہ صحت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ موت ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے ہوئی ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی معلوم ہوسکے گا۔ اپریل میں شہر کے مختلف علاقوں میں ۳؍ بے گھر افراد لقمہ اجل بن گئے۔ لیکن میونسپل کارپوریشن کی ہیٹ اسٹروک ڈیتھ اینالیسس کمیٹی کے اجلاس میں ہیٹ اسٹروک سے اموات ہونے کی تردید کی گئی ہے۔ 

سابق رکن اسمبلی سنجے دھوٹے کا دعویٰ ہے کہ ناگپور ضلع میں لُو لگنے (ہیٹ اسٹروک) سے۴۰؍سے زائد افراد کی موت ہوئی ہے۔ ان میں ناگپور شہر کے۲۶؍ بے گھر افراد، بھنڈارہ ضلع میں دو اور گوندیا ضلع میں ایک جبکہ چندرپور میں تین روز میں ۱۰؍ سے زائد افراد ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوکر ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تحصیل پولیس تھانے کی حدود میں ۲۵؍ مئی کو۴۵؍ سالہ شخص کی موت ہوئی، ۲۶؍ مئی کو بس اسٹینڈ کے قریب ڈاگا اسپتال کے قریب۴۰؍ سالہ شخص، ۲۶؍ مئی کو۳۵؍ سالہ شخص بازار کے علاقے پانچ پاولی میں، ۲۶؍ مئی کو سیتابرڈی میں ۴۰؍ سالہ شخص، ۲۷؍ مئی کو گلشن نگر میں ۶۰؍ سالہ شخص، جونی کامٹھی میں ۶۰؍ سالہ شخص بے ہوش پایا گیا۔ تمام کو جب مختلف سرکاری اسپتالوں میں لے جایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی دم توڑ چکے ہیں۔ نوی کامٹھی، ویشالی نگر، میشرام پتلا چوک، یشودیپ کالونی، مہاڑیہ بھون کے قریب، دیگھوری فلائی اوور کے نیچے، شکردرہ، گنیش پیٹھ، میکوسا باغ، آٹومیٹو چوک، کلمانہ اور دیگر علاقوں میں مختلف عمر کے لوگ بے ہوش پائے گئے۔ جب سب کو سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ فوت ہو چکے تھے۔ 

  چندر پور کے بی جے پی لیڈر اور سابق رکن اسمبلی ایڈوکیٹ سنجے دھوٹے نے الزام لگایا ہےکہ راجورہ اسمبلی حلقہ میں گزشتہ ۳؍ دنوں میں ہیٹ اسٹروک سے ۱۰؍ افراد کی موت ہوئی ہے۔ دھوٹے نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ شدید گرمی کی وجہ سے دو سگی بہنیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں لیکن ضلعی انتظامیہ یا محکمہ صحت نے ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی اموات کو ریکارڈ نہیں کیا۔ کورپنا تعلقہ کے آوارپور میں دو دنوں میں چار لوگوں کی موت ہوئی۔ رحیم شیخ(۳۰) اور ناناجی چاہارے(۹۰) دونوں کی موت۲۹؍ مئی کو ہوئی تھی، جب کہ مہادیو واسیکر، امباداس دھوٹے، چندر بھاگا سونٹکے اور سنجے ماندالے کی موت۲۸؍ مئی کو ہوئی تھی۔ کورپنا تعلقہ کے ہیراپور میں دو سگی بہنیں سندرابائی کوڈاپے(۷۰) اور گونڈن بائی آترم(۷۵) کی موت ہوگئی۔ 

 ایڈوکیٹ سنجے دھوٹے نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان اموات کو ضلع انتظامیہ یا محکمہ صحت نے ریکارڈ نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ انچارج ڈاکٹر مادھو چنچولے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے `پورٹل پر ہیٹ اسٹروک کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے چند روز قبل بھدراوتی، ساولی اور ناگ بھیڑ میں ہونے والی اموات ہیٹ اسٹروک سے ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔ شبہ ہے کہ سندیھ واہی گاؤں کے ارون رندئے(۴۹)  وروراہ کے ایک نوجوان کنال عرف سنکیت ماڑاوی، گونڈپیپری تعلقہ کے دھانا پور سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ اور ڈھابہ کے روی بونڈکو چودھری اور شانتا بائی اُوسننا سندیلوار(۷۰) کی موت ہیٹ اسٹروک سے ہوئی ہے۔ بھنڈارہ ضلع کے لاکھاندور تعلقہ میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے بھاسکر پنڈھری بھوٹے(۴۰)  کی طبیعت خراب ہوئی۔ لاکھاندور میں جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے اسے بھنڈارہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم بھنڈارہ جاتے ہوئے راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی۔ دوسرے واقعہ میں دھارگاؤں کی تقریباً۷۰؍ سالہ جسمانی طور پر معذور خاتون ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے فوت ہوگئی۔ گوندیا ضلع کے ارجونی مورگاؤں تعلقہ کے نیمگاؤں کے سریش گیڈم(۴۵) کی بھی ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے موت ہونے کی خبر ہے۔ 


Share: